روم،5ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بحیرہ روم میں دس لاکھ سے زائد تارکین وطن کی جانیں بچانے والے ایک بحری جہاز کو میانمار سے فرار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ امدادی بحری جہاز مالٹا میں بیس کیمپ بنانے والی امدادی تنظیم ایم او اے ایس کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ ایم او اے ایس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا بحیرہ روم کا آپریشن معطل کر دیا ہے اور اب اسے ایشیا میں شروع کیا جا رہا ہے۔اس بیان سے پہلے مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ روہنگیا افراد کی مدد کرے۔ بیان کے مطابق بحری جہاز بنگلہ دیش اور میانمار کے اس ساحلی علاقے میں اپنی سرگرمیاں شروع کرے گا، جہاں ہزاروں روہنگیا کمزور کشتیوں پر سوار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔دریں اثناء پاکستان کی وزارت خارجہ نے میانمار کی روہنگیا اقلیت کے خلاف ہونے والے ظلم و تشدد پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ اس طرح کے تشدد کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ تفصیلات فراہم کیے بغیر انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرتا رہے گا۔دوسری جانب انڈونیشیا کی وزیر خارجہ ریٹینو مارسوڈی نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی اور اس ملک کی اعلیٰ فوجی قیادت سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے میانمار حکومت پر راکھین ریاست میں فوری طور پر کشیدگی میں کمی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انڈونیشیا نے انسانی بحران کے خاتمے کے لیے ایک پانچ نکاتی ایجنڈا بھی میانمار کے حوالے کیا ہے۔بنگلہ دیش کے سرحدی حکام کے مطابق میانمار سے فرار ہو کر آنے والے دو روہنگیا بچے سرحدی علاقے میں بچھی ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے سے شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ ایک بچے کی ٹانگ بالکل ہی اس کے جسم سے الگ ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ اسی علاقے میں پیش آیا ہے، جہاں پیر کے روز بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ایک خاتون کی ٹانگ کٹ گئی تھی۔نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایسے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے کہ بنگلہ دیش اور میانمار کے سرحدی علاقے میں جان بوجھ کر بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔ ترک کے وزیر خارجہ بھی بدھ کے روز بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں تاکہ میانمار میں جاری لڑائی اور روہنگیا مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لیا جا سکے۔جنوبی کوریا کی بحریہ کے جنگی جہازوں نے آج منگل پانچ سمتبر کو فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ ان مشقوں میں اصلی گولہ بارود استعمال کیا گیا ہے۔ امریکا کی جانب سے شمالی کوریا کو طاقتور فوجی جواب دینے کے انتباہ کے بعد شمالی کوریا نے فوجی مشقوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان مشقوں میں ایف پندرہ لڑاکا طیاروں نے بھی حصہ لیا۔ دوسری جانب جنوبی کوریا اور امریکا کے صدور نے جنوبی کوریا میں نصب میزائل سسٹم پر سے وارہیڈز کی پابندی ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے بعد جنوبی کوریا بھی طاقتور ہتھیاروں کی پیداوار شروع کر سکے گا۔ اُدھر سکیورٹی کونسل نے ایک ہفتے کے دوران دوسری ایمرجنسی میٹنگ میں جزیرہ نما کوریا کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے۔